بشکریہ : راشد اشرف صاحب
کچھ ہماری طرف سے بھی
"میں جانتا ہوں کہ حکومتوں سے سرزد ہونے والے جرائم، جرائم نہیں حمکت عملی کہلاتے ہیں۔ جرم تو صرف وہ ہے جو انفرادی حیثیت سے کیا جائے۔"
(جونک کی واپسی)
"آدمی کس قدر بے چین ہے مستقبل میں جھانکنے کے لیے۔ شاید آدمی اور جانور میں اتنا ہی فرق ہے کہ جانور مستقبل سے بے نیاز ہوتا یے اور آدمی مستقبل لیے مرا جاتا ہے۔"
(سہ رنگا شعلہ)
"میں عموما بنجر زمین پر کاشت کرتا ہوں اور کچھ نہیں تو کانٹے دار پودے ہی اگا لیتا ہوں اور وہ کانٹے میرے لیے خون کی بوندیں فراہم کردیتے ہیں۔"
(مہکتے محافظ)
"اگر میں اس سڑک پر ناچنا شروع کردوں تو مجھے دیوانہ کہو گے لیکن لاشوں پر ناچنے والے سورما کہلاتے ہیں۔ انہیں اعزاز ملتے ہیں، ان کی چھاتیاں تمغوں سے سجائی جاتی ہیں"
(خطرناک لاشیں)
"جو عبادت آدمی کو آدمی نہیں بنا سکتی، میں اس عبادت کے بارے میں اپنی رائے محفوظ رکھنے پر مجبور ہوں"
(صحرائی دیوانہ)
"دنیا کا کوئی مجرم بھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ قدرت خود ہی اسے اس کے مناسب انجام کی طرف دھکیلتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تم ایک رات بھی اپنی چھت کے نیچے آرام کی نیند نہ سو سکو، زمین پر فتنوں کے علاوہ کچھ نہ اگے"
(ہیروں کا فریب)
"یہاں اس ملک میں تمہارے ناپاک ارادے کبھی شرمندہ تکمیل نہیں ہو سکیں گے۔ یہاں کی فضا میں ایسا معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا جو خدا کے وجود سے خالی ہو"
(جہنم کی رقاصہ)
"جب کوئی ذہین اور تعلیم یافتہ آدمی مسلسل ناکامیوں سے تنگ آجاتا ہے تو اس کی ساری شخصیت صبر کی تلخیوں میں ڈوب جاتی ہے۔"
(موت کی آندھی)
"ایک پرندے کو سنہرے قفس میں بند کر کے دنیا کی نعمتیں اس کے لیے مہیا کر دو لیکن کیا وہ پرندہ تمہیں دعائیں دے گا ؟"
(دشمنوں کا شہر)
منتخب شدہ موضوع کے مراسلات
Showing posts with label اقتباسات. Show all posts
2009/06/20
یک سطری جواہر پارے - (1)
- بعض اوقات قیاس بھی حقیقت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
- کوئی بھی فن معصومیت اور پاکیزگی کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا۔
- خدا جاہل والدین سے بچائے۔
- یہ زندگی الفاظ ہی کا تو کھیل ہے۔
- میں اُن مجرموں کو احمق سمجھتا ہوں ، جو پولیس کو مرعوب کرنے کی کوشش کریں۔
- ہر آدمی اپنے ماحول سے اکتایا ہوا ہے۔
- زندہ رہنے کے لیے سب کچھ گوارا کرنا پڑتا ہے۔
- آدمیت کی معراج صرف بانٹ کر کھانے میں مضمر ہے۔
- اصل چیز محنت ہے ، دولت نہیں۔
- جو بھی اپنی حدود سے تجاوز کرے گا دشواری میں ضرور پڑے گا۔
- اپنی پسند کے لوگ تلاش کیے جاتے ہیں یونہی نہیں مل جایا کرتے۔
- اگر سب عقل مند ہو جائیں تو زندگی ریگستان بن کر رہ جائے گی۔
- فنکاروںکے یہاں تکلفات کو دخل نہ ہونا چاہئے۔
- میں خود کو بےبس سمجھنے کا عادی نہیں ہوں۔
- عالی ظرف لوگ کبھی احسان نہیں جتاتے ، بلکہ زبان پر بھی نہیں لاتے۔
- آدمی کتنا گر سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔
- تمہیں زیادہ سے زیادہ وقت کسی کام پر صرف کرنا چاہئے۔
- دنیا کی ہر عورت بحیثیت بیوی کریک ہوتی ہے۔
- شادی شائد اس چڑیا کو کہتے ہیں جو رات کو بولتی ہے اور دن کو کہیں نہیں دکھائی دیتی۔
- عورتوں کی ہم نشینی سے خدا ہر شریف آدمی کو محفوظ رکھے۔
- لڑکیوں کی موجودگی میں انتہائی سنجیدہ لوگ بھی شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں۔
- اللہ ناٹے کو لمبی اور لمبے کو ناٹی عورت سے بچائے ۔۔۔۔
- ناگن ہر حال میں زہریلی ہوتی ہے ! عورت ناگن ہی کہلاتی ہے نا !
- ہر نسل اور ہر قوم کی عورت ، صرف عورت ہوتی ہے۔
- ہر لڑکی کے معاملے میں خدا سے ڈرنا چاہئے۔
- موٹی محبوبائیں لاش کے سینے پر رکھا ہوا پتھر بن جاتی ہیں۔
- بوڑھی محبوبائیں لات مارنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔
- عورت بجائے خود ایک بہت بڑی طاقت ہے ۔اتنی بڑی کہ مرد پیدا کرتی ہے ۔
- حسن جہاں بھی نظر آئے اسے پوجنا ہی چاہیے ۔خواہ وہ کتے کے پِلّے ہی میں کیوں نہ نظر آئے ۔
- دنیا کی ساری نعمتیں صرف عورتوں ہی کے لئے ہیں ۔
- دَب کر چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے ۔
- کوئی بھی فن معصومیت اور پاکیزگی کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا۔
- خدا جاہل والدین سے بچائے۔
- یہ زندگی الفاظ ہی کا تو کھیل ہے۔
- میں اُن مجرموں کو احمق سمجھتا ہوں ، جو پولیس کو مرعوب کرنے کی کوشش کریں۔
- ہر آدمی اپنے ماحول سے اکتایا ہوا ہے۔
- زندہ رہنے کے لیے سب کچھ گوارا کرنا پڑتا ہے۔
- آدمیت کی معراج صرف بانٹ کر کھانے میں مضمر ہے۔
- اصل چیز محنت ہے ، دولت نہیں۔
- جو بھی اپنی حدود سے تجاوز کرے گا دشواری میں ضرور پڑے گا۔
- اپنی پسند کے لوگ تلاش کیے جاتے ہیں یونہی نہیں مل جایا کرتے۔
- اگر سب عقل مند ہو جائیں تو زندگی ریگستان بن کر رہ جائے گی۔
- فنکاروںکے یہاں تکلفات کو دخل نہ ہونا چاہئے۔
- میں خود کو بےبس سمجھنے کا عادی نہیں ہوں۔
- عالی ظرف لوگ کبھی احسان نہیں جتاتے ، بلکہ زبان پر بھی نہیں لاتے۔
- آدمی کتنا گر سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔
- تمہیں زیادہ سے زیادہ وقت کسی کام پر صرف کرنا چاہئے۔
- دنیا کی ہر عورت بحیثیت بیوی کریک ہوتی ہے۔
- شادی شائد اس چڑیا کو کہتے ہیں جو رات کو بولتی ہے اور دن کو کہیں نہیں دکھائی دیتی۔
- عورتوں کی ہم نشینی سے خدا ہر شریف آدمی کو محفوظ رکھے۔
- لڑکیوں کی موجودگی میں انتہائی سنجیدہ لوگ بھی شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں۔
- اللہ ناٹے کو لمبی اور لمبے کو ناٹی عورت سے بچائے ۔۔۔۔
- ناگن ہر حال میں زہریلی ہوتی ہے ! عورت ناگن ہی کہلاتی ہے نا !
- ہر نسل اور ہر قوم کی عورت ، صرف عورت ہوتی ہے۔
- ہر لڑکی کے معاملے میں خدا سے ڈرنا چاہئے۔
- موٹی محبوبائیں لاش کے سینے پر رکھا ہوا پتھر بن جاتی ہیں۔
- بوڑھی محبوبائیں لات مارنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔
- عورت بجائے خود ایک بہت بڑی طاقت ہے ۔اتنی بڑی کہ مرد پیدا کرتی ہے ۔
- حسن جہاں بھی نظر آئے اسے پوجنا ہی چاہیے ۔خواہ وہ کتے کے پِلّے ہی میں کیوں نہ نظر آئے ۔
- دنیا کی ساری نعمتیں صرف عورتوں ہی کے لئے ہیں ۔
- دَب کر چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے ۔
2009/06/17
قانون
اِدھر اُدھر کی باتوں میں آدمی ہمیشہ ننگا ہو جاتا ہے۔ یعنی تمہاری روح اور فرشتے اِدھر اُدھر کی باتوں میں لازمی طور پر ظاہر ہو جائیں گے۔
تم اِدھر اُدھر کی باتوں میں غیرشعوری طور پر اپنے کردار کی جھلکیاں دکھاتے چلے جاؤ گے۔
ناول : رائفل کا نغمہ
***
آخر یہ سب کب تک ہوتا رہے گا۔۔؟
جب تک اس نظام کی بنیادی خامیاں دور نا کردی جائینگی۔ان کی طرف کوئی بھی دھیان نہیں دیتا۔بس جمہوریت کے ڈھول پیٹے جاتے ہیں۔ شائد کوئی بھی نہیںجانتا کے جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے یا پھر اسکی طرف سے مصلحتاً ہی آنکھیں بند کرلی گئی ہیں۔۔۔بنیادی چیز آدمی کو اپنے مقام کا عرفان ہے۔جب تک آدمی اپنا مقام نہیں پہچانیگا۔کسی نظام کو ڈھنگ سے نہیں چلا سکے گا۔۔
ناول : دہشت گر
***
میں کہتا ہوں! اگر تم قانون کو ناقص سمجھتے ہو تو اجتماعی کوششوں سے اسے بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ اگر اس کی ہمت نہیں ہے تو تمہیں اسی قانون کا پابند رہنا پڑے گا!
اگر تم اجتماعی حیثیت سے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس سے متفق ہو۔ اب اگر متفق ہونے کے باوجود بھی تم اس کی حدود سے نکلنے کی کوشش کرو تو تمہاری سزا موت ہی ہونی چاہئے۔
ناول : لاش کا بلاوا
***
ایٹم بم اور ہائیڈروجن بموںکے تجربات ان کی سمجھ سے باہر تھے کہ ایک آدمی جب پاگل ہوجاتا ہے تو اسے پاگل خانے میں کیوں بند کردیتے ہیں' اور جب کوئی قوم پاگل ہوجاتی ہے تو " طاقتور " کیوں کہلانے لگتی ہے ؟
ناول : انوکھے رقاص
***
یہاں ہر آدمی اپنی راہ کا کانٹا ہٹا دیتا ہے یہ ایک فطری بات ہے ۔کبھی اس فعل کی حیثیت انفرادی ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی' اجتماعی حیثیت کو ہم قانون کہتے ہیں۔
ہر وقت قہقہے لگانے والوں پر حالانکہ کسی غم کا اثر دیر پا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ تھوڑا سا غم انگیز وقفہ انکے لئے اتنا جان گسل ہوتا ہے کے کچھ دیر کے لئے انکی رجائیت کی بنیادیں تک ہل جاتی ہیں۔
ناول : کچلی ہوئی لاش
تم اِدھر اُدھر کی باتوں میں غیرشعوری طور پر اپنے کردار کی جھلکیاں دکھاتے چلے جاؤ گے۔
ناول : رائفل کا نغمہ
***
آخر یہ سب کب تک ہوتا رہے گا۔۔؟
جب تک اس نظام کی بنیادی خامیاں دور نا کردی جائینگی۔ان کی طرف کوئی بھی دھیان نہیں دیتا۔بس جمہوریت کے ڈھول پیٹے جاتے ہیں۔ شائد کوئی بھی نہیںجانتا کے جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے یا پھر اسکی طرف سے مصلحتاً ہی آنکھیں بند کرلی گئی ہیں۔۔۔بنیادی چیز آدمی کو اپنے مقام کا عرفان ہے۔جب تک آدمی اپنا مقام نہیں پہچانیگا۔کسی نظام کو ڈھنگ سے نہیں چلا سکے گا۔۔
ناول : دہشت گر
***
میں کہتا ہوں! اگر تم قانون کو ناقص سمجھتے ہو تو اجتماعی کوششوں سے اسے بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ اگر اس کی ہمت نہیں ہے تو تمہیں اسی قانون کا پابند رہنا پڑے گا!
اگر تم اجتماعی حیثیت سے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس سے متفق ہو۔ اب اگر متفق ہونے کے باوجود بھی تم اس کی حدود سے نکلنے کی کوشش کرو تو تمہاری سزا موت ہی ہونی چاہئے۔
ناول : لاش کا بلاوا
***
ایٹم بم اور ہائیڈروجن بموںکے تجربات ان کی سمجھ سے باہر تھے کہ ایک آدمی جب پاگل ہوجاتا ہے تو اسے پاگل خانے میں کیوں بند کردیتے ہیں' اور جب کوئی قوم پاگل ہوجاتی ہے تو " طاقتور " کیوں کہلانے لگتی ہے ؟
ناول : انوکھے رقاص
***
یہاں ہر آدمی اپنی راہ کا کانٹا ہٹا دیتا ہے یہ ایک فطری بات ہے ۔کبھی اس فعل کی حیثیت انفرادی ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی' اجتماعی حیثیت کو ہم قانون کہتے ہیں۔
ہر وقت قہقہے لگانے والوں پر حالانکہ کسی غم کا اثر دیر پا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ تھوڑا سا غم انگیز وقفہ انکے لئے اتنا جان گسل ہوتا ہے کے کچھ دیر کے لئے انکی رجائیت کی بنیادیں تک ہل جاتی ہیں۔
ناول : کچلی ہوئی لاش
سبسکرائب کریں :
ابنِ صفی بلاگ کی تحریریں (Atom)